373

سوال_نکاح کرنے سے تنگدستی کیسے دور ہوتی ہے؟ اور ایک حدیث میں ہے کہ(جس کے پاس نکاح کی استطاعت ہو تو وہ شادی کر لے) تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ غریب آدمی جسکے پاس استطاعت نہیں تو وہ شادی نا کرے؟ نیز کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا تھا کہ نکاح کرو تنگدستی ختم ہو جائے گی؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-289”
سوال_نکاح کرنے سے تنگدستی کیسے دور ہوتی ہے؟ اور ایک حدیث میں ہے کہ(جس کے پاس نکاح کی استطاعت ہو تو وہ شادی کر لے) تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ غریب آدمی جسکے پاس استطاعت نہیں تو وہ شادی نا کرے؟ نیز کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا تھا کہ نکاح کرو تنگدستی ختم ہو جائے گی؟

Published Date: 28-9-2019

جواب:
الحمدللہ:

*پہلی بات تو یہ جان لیجئے کہ نکاح بھی ان اسباب میں سے ایک ہے جن سے فقر و تنگدستی دور ہوتی ہے*

📚اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

(وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ)
(سورہ النور آئیت_32 )
ترجمہ:
اور تم میں سے جو لوگ مجرد ( بغیر شوہر یا بیوی کے) ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکاح کر دو۔ اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اللہ بڑی وسعت والا علم والا ہے۔ ٌ

تفسیر :
اس آیہ مبارکہ میں لفظ اَیامیٰ استعمال ہوا ہے جس کے معنی محض بیواؤں کے نہیں ہیں بلکہ ان مردوں اور عورتوں کے ہیں جو مجرد ہوں یعنی وہ مرد جن کی بیویاں نہ ہوں اور وہ عورتیں جن کے شوہر نہ ہوں:
اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ :
عام طور پر غربت کو مرد کے نکاح کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے کہ جب اس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں تو بیوی کو کہاں سے کھلائے گا، اس لیے غریب کو کوئی رشتہ نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس خیال کی تردید کی اور فرمایا کہ تم مجرد لوگوں کا نکاح کر دو ، اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں غنی کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پاس غیب سے غنی کردینے کا اختیار ہے،
یعنی نکاح کے معاملہ میں تنگ دستی مانع نہیں ہونی چاہیے بلکہ اللہ پر بھروسہ کر کے اس مبارک کام کو انجام دینا چاہیے۔ جو شخص اللہ کے حکم کی تعمیل کرے گا اللہ اسے ضرور اپنے فضل سے نوازے گا،
اور اسباب کے لحاظ سے بھی بیوی آنے کے بعد وہ کمائی کے لیے زیادہ جدو جہد کرے گا،یعنی یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ شادی کے بعد کتنے ہی غریبوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور کتنے ہی لوگ خوشحال ہو گے ہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان نکاح کے بعد احساس ذمہ داری کی وجہ سے پوری طرح محنت کرنے لگتا ہے جو پہلے نہیں کرتا۔ کبھی بیوی اس کے کسب معاش کے سلسلہ میں اس کی ممد و معاون بن جاتی ہے۔ کبھی بیوی کے کنبہ والے اس سلسلہ میں اس کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ کبھی مرد کے لئے کمائی اور آمدنی کی ایسی راہیں کھل جاتی ہیں۔ جس کا اسے پہلے وہم و گمان بھی نہیں ہوتا گویا پیدا ہونے والے بچے اپنا رزق اپنے ساتھ لاتے ہیں جس کا ذریعہ ان کا والد بنتا ہے۔

اور پھر کھانا تو پہلے وہ خود بھی کھاتا ہے، اگر مزید کمائی نہ بھی کرے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق، ایک کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے۔

📚 چنانچہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لیے اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لیے کافی ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو کفایت کر جائے گا، دو آدمی کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کر جائے گا اور چار آدمی کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کفایت کر جائے گا“،
۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
(سنن ترمذی حدیث نمبر-1820)
تخریج الحدیث:
(صحیح البخاری حدیث نمبر_5392)
(صحیح مسلم/الأشربة_2058)،
(مسند احمد (2/407) (صحیح)

پہلے یہ اکیلا کمائی کرتا تھا، بیوی آنے کے بعد اس کی کمائی کی استعداد دو گنا ہی نہیں بلکہ مشہور عام قول کے مطابق گیارہ گنا ہوجائے گی۔ بیوی اس کا ہاتھ بٹائے گی، ہوسکتا ہے کہ بیوی کو اللہ تعالیٰ نے کوئی ہنر عطا کر رکھا ہو، یا وہ بہتر مشورے دے کر خاوند کی بہترین مشیر ثابت ہو، یا بیوی کے رشتہ داروں کے تعاون سے حالت بدل جائے۔ علاوہ ازیں اولاد ہونے کے بعد عین ممکن ہے کہ وہ اتنی کمائی کریں کہ پورا کنبہ ہی اغنیاء میں شامل ہوجائے،

📒امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک حدیث پر عنوان لکھتے ہوئے کہا ہے:
“باب ہے تنگ دست کی شادی کے متعلق؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ)
اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔”

📒حافظ ابن حجر اس کے تحت لکھتے ہیں کہ: “(إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ) اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔
یہ در حقیقت عنوان کا سبب اور علت ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: اگر ابھی فی الوقت مال میسر نہیں ہے تو یہ شادی کے لیے مانع نہیں؛ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ بعد میں انہیں دولت مل جائے” ختم شد

📚علی بن ابو طلحہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: “اللہ تعالی نے جوانوں کو شادی کی ترغیب دلائی اور آزاد و غلام سب کو شادی کا حکم دیا اور پھر شادی پر انہیں دولت مند کرنے کا وعدہ بھی دیا، اور فرمایا: (إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ) اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا ۔”

ایسے ہی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: “نکاح کے ذریعے دولت تلاش کرو”
(“تفسیر ابن كثیر”(6 /51)

📚اس بارے میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں غیر شادی شدہ نیک اور صالح مرد و خواتین کی شادی کرنے کا حکم دیا ہے، اور پھر یہ خبر دی ہے جبکہ اللہ کی خبریں سچی ہوتی ہیں کہ شادی غریب لوگوں پر اللہ کے فضل کا باعث ہے، اللہ تعالی نے خبر اس لیے دی ہے کہ خاوند اور لڑکی کے سرپرست مطمئن رہیں کہ غربت کی وجہ سے شادی نہیں روکنی چاہیے، بلکہ یہ تو رزق اور تونگری کے اسباب میں سے ہے۔” ختم شد
“فتاوى إسلامية” (3 /213)

اس کے برعکس اگر کسی غنی کو لڑکی دے گا تو ہوسکتا ہے کسی آزمائش میں وہ فقیر ہوجائے۔

📚 اللہ نے فرمایا :
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ _ تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۡ وَتُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْـحَيِّ ۡ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
[سورہ آل عمران : آئیت26٫27 ]
ترجمہ:
” کہہ دے اے اللہ ! بادشاہی کے مالک ! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کردیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بیشک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور تو دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور تو مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور تو جسے چاہے کسی حساب کے بغیر رزق دیتا ہے۔ “

یہ سب کچھ عام مشاہدے میں آتا رہتا ہے، دولت دھوپ چھاؤں کی طرح آج یہاں ہے تو کل وہاں، بلکہ دولت کا معنی ہی گھومنا ہے، اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس صحابی کا نکاح بھی کردیا تھا جس کے پاس ایک چادر کے سوا کچھ نہیں تھا، حتیٰ کہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں تھی۔

📚حدیث میں آتا ہے کہ،
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: “اللہ کے رسول! میں اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے آئی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی جانب اوپر سے نیچے دیکھا پھر اپنا سر جھکا دیا، تو جب خاتون نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔ اس پر صحابہ کرام میں سے ایک آدمی اٹھا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس میں چاہت نہیں ہے تو پھر میری شادی اس سے کر دیجیے! تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (تمہارے پاس [حق مہر کے لیے ]کچھ ہے؟) تو اس نے کہا: “نہیں اللہ کے رسول میرے پاس کچھ نہیں ہے” تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جاؤ گھر جا کر دیکھو کوئی چیز مل جائے) تو وہ آدمی چلا گیا اور پھر واپس آ کر کہنے لگا: “نہیں اللہ کے رسول! مجھے کچھ نہیں ملا” آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جاؤ جا کر دیکھو چاہے کوئی لوہے کی انگوٹھی ہی ہو) تو وہ آدمی پھر جا کر واپس آ گیا اور کہنے لگا: ” نہیں اللہ کے رسول! مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی، البتہ میری یہ لنگی ہے-حدیث کے راوی سہل کہتے ہیں ان کے پاس اوپر والی چادر نہیں تھی اور انہوں نے کہا اس میں سے آدھی اسے دیے دیتا ہوں” تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (تم اپنی لنگی سے کیا کرو گے، اگر تم پہنو گے تو اس کے تن پر کچھ نہیں ہوگا اور اگر وہ پہنے گی تو تمہارے تن پر کچھ نہیں ہو گا) یہ سن کر آدمی کافی دیر تک بیٹھا رہا ، پھر وہ کھڑا ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا کہ وہ جا رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بلانے کا حکم دیا ، جب وہ قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (تمہارے پاس قرآن کتنا ہے؟) تو وہ شخص سورتیں گنوانے لگا کہ فلاں فلاں سورتیں ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (کیا یہ تمام سورتیں زبانی پڑھتے ہو؟) تو اس نے کہا: جی ہاں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جاؤ میں نے تمہارا نکاح اس سے تمہیں یاد قرآن کے بدلے میں کر دیا ہے،
(صحیح بخاری حدیث نمبر-5030)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خیال ہی نہیں فرمایا کہ یہ بیوی کو کھانا کہاں سے کھلائے گا کہ جسکے پاس چادر یا لوہے کی انگوٹھی تک ہی نہیں۔۔۔۔ اس لیے اہل علم نے دولت مند بننے کے اسباب میں سے نکاح کو بھی ایک سبب قرار دیا ہے،

مگر موجودہ دور کے نوجوانوں کا حال بھی عجیب ہے جو جدید تہذیب کے زیر اثر ازدواج کی ذمہ داریوں سے کتراتے رہتے ہیں۔ پچیس سال کی عمر تک تو وہ حصول تعلیم میں مشغول رہتے ہیں اس کے بعد پانچ سال معاشی جدوجہد میں اس طرح صرف کرتے ہیں کہ ان کا معیار زندگی قائم ہوجائے اور اتنا پیسہ ہو کہ وہ ٹھاٹ باٹ سے شادی کر سکیں۔ اس طرح ان کی جوانی کنوارے پن میں گزرتی ہے اور آدھی عمر کے بعد وہ رشتہ تلاش کرتے ہیں۔ تہذیب جدید نے ایک طرف نا بالغوں کو بالغ بنا دینے والا ہیجان انگیز ماحول بنایا ہے اور دوسری طرف شادی کی ذمہ داریوں سے کترانے کا رجحان پیدا کردیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ بیشتر نوجوان بری طرح جنسی بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں اور دوسری طرف لڑکیوں کو رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کی شادی کی عمریں ضائع ہو رہی ہیں اور زیادہ عمر کی وجہ سے رشتے ہوتے نہیں اور ہو جائیں تو اولاد نہیں ہوتی اور پھر سے طلاق وغیرہ کے مسائل شروع ہو جاتے ہیں، یہ صورتِ حال اصلاح طلب ہے اور قرآن کی ہدایت پر عمل کی متقاضی ہے،

اور یاد رہے کہ اللہ بڑی وسعت والا ہے اس لیے اس سے امید رکھو کہ وہ رزق میں کشائش اور فراخی پیدا کرے گا۔ وہ علم والا ہے اس لیے وہ جانتا ہے کہ کون عفت کی زندگی چاہتا ہے اور تنگ دست ہونے کے باوجود ازدواج کی ذمہ داریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو گا،

📚اور رسول مکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال :
(ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ : الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ)
ترجمہ :
تین آدمیوں کی مدد اللہ کے ذمہ ہے ،
(1) مجاہد فی سبیل اللہ
(2)وہ غلام جس نے اپنے آقا سے آزادی کیلئے معاہدہ کر رکھا ہو ،
(3 ) اور وہ شادی کرنے والا جس کا نکاح کرنے کا مقصد پاکدامنی ہو ”
(سنن ترمذي حدیث نمبر_1655)
(وصححه ابن العربي في “عارضة الأحوذي” (5/3) ، وحسنه الألباني في “صحيح الترمذي”

_______&________

*لہذا تمام نوجوانوں کو چاہیے کہ پاکدامنی کی نیت سے جلد سے جلد نکاح کریں،اور بلاوجہ نکاح میں تاخیر نا کریں، کیونکہ جوانی میں تنہا رہنے سے گناہ میں پڑنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اور جو کسی جائز عذر جیسے رشتہ وغیرہ نا ملنے یا شادی وغیرہ کے لیے معقول خرچ بھی نا ہونے کی وجہ سے نکاح نا کر سکے اسے چاہیے کہ تب تک کثرت سے نفلی روزے رکھے*

📚چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی،
تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے فرمایا،
يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ،
کہ اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں جسے بھی نکاح کی استطاعت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی استطاعت نا رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا،
(صحیح بخاری حدیث نمبر-5066)

وجاء کا معنی فحاشی سے بچاؤ ہے ،

علماء کرام رحمہ اللہ تعالی کے ” الباءۃ ” معنی میں دو قول ہیں :

کچھ علماء کا کہنا ہے کہ اس سے نکاح کرنے کی قدرت اورخرچہ مراد ہے ، اور دوسرا قول یہ ہے کہ : اس سے جسمانی طاقت مراد ہے کہ اس میں جماع کرنے کی طاقت ہونی چاہیے ۔

توان دونوں معانی میں سے کوئ ایک دوسرے کے منافی نہیں ، تواس حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ جونوجوان بھی جماع کی قدرت اورنکاح کا خرچہ رکھتا ہے وہ شادی کرے ۔

📒امام نووی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :
علماء کرام باءۃ کے معنی میں دو قول ذکر کرتے ہیں ، جوکہ ایک ہی معنی پرلوٹتے ہیں ان میں صحیح یہ ہے کہ : اس سے لغوی معنی یعنی جماع مراد ہے ، تواس طرح حدیث کا معنی یہ ہے ہوگا : تم میں سے جوبھی نکاح کے لوازمات کی قدرت سے جماع کی استطاعت رکھتا ہے وہ شادی کرے ، اورجومالی طاقت سے عاجزہو وہ روزے رکھے تاکہ اپنی شہوت کنٹرول اور منی کے شرکوختم کرسکے جس طرح کہ ڈھال بچاؤ کرتی ہے ۔ ا ھـ
( شرح مسلم ( 9 / 173 )

📒اور ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :
باءۃ کی تفسیر وطئ بھی کی گئ ہے اورمئونہ نکاح بھی ، توپہلی تفسیر منافی نہیں اس لیے کہ اس کا معنی باءۃ کے لوازمات ہیں ۔
دیکھیں : روضۃ المحبین ص ( 219 )

📒اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :
استطاعت نکاح ہی قدرت مئونہ ہے نہ کہ قدرت وطئ کیونکہ حدیث میں خطاب ہی اسے ہے جووطئ کے فعل پرقادر ہو ، اور اس لیے ہی جویہ استطاعت نہیں رکھتا اسے روزے کا حکم دیا گيا ہے کیونکہ یہ اس کے لیے بچا‎ؤ ہے ۔ ا ھـ
(الفتاوی الکبری ( 3 / 134 )

📒شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
للہ یہ دونوں حدیثیں آپس میں متناقض نہیں ہیں، بلکہ ہر حدیث اپنے خاص سیاق اور تناظر میں آئی ہے؛ چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث تمام نوجوانوں اور دیگر شادی کی رغبت رکھنے والوں کے کیلیے عمومی خطاب ہے اور اس خطاب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ شادی کے لیے اخراجات کی استطاعت لازمی ہیں تا کہ خاوند اپنے کندھوں پر نفقہ، لباس اور رہائش کی صورت میں پڑنے والی ذمہ داری کو اچھے انداز سے نبھا سکے۔
حدیث کے عربی الفاظ میں لفظ: “الباءة” سے مراد شادی کی ضروریات ہیں، تو صاحب شریعت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس اصول کو بیان کیا ہے کہ شادی محض ایک بندھن نہیں ہے کہ حلال طریقے سے اپنی شہوت پوری کی جائے اور بس ، بلکہ شادی ایک ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کا بوجھ مردوں کی عورتوں پر سرپرستی کی صورت میں ہوتا ہے۔
“نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص نکاح کرنے سے عاجز ہو تو وہ روزے رکھے؛ کیونکہ روزہ شہوت کم کر دیتا ہے اور شیطان کی چالوں کو کم کرتا ہے، لہذا روزہ بھی عفت اور آنکھیں جھکا کر رکھنے کے اسباب میں شامل ہے”
مجموع فتاوى ابن باز” (3 /329)

📒دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ:
“شادی کے اخراجات اٹھانے اور ازدواجی حقوق ادا کرنے کی استطاعت رکھنے والے شخص کے لیے فوری شادی کرنا سنت ہے ” انتہی
(“فتاوى اللجنة الدائمة” (18 /6)

📒سعودی فتاویٰ کمیٹی ایک جگہ پر اوپر ذکر کردہ احادیث کی وضاحت میں لکھتے ہیں کہ:
اور شادی کی استطاعت رکھنے والے شخص کو شادی کی ترغیب دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ استطاعت نہ رکھنے والے کو شادی سے منع کر دیا گیا ہے، اور عدم ممانعت اس وقت مزید پختہ ہو گی جب غریب شخص کا برائی میں پڑنے کا خدشہ ہو۔پھر شادی کی استطاعت نہ رکھنے والے شخص کو روزوں کا مشورہ اس لئے ہے تا کہ اس کی شہوت ٹوٹ جائے اور اس میں ٹھہراؤ آئے ، اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ شادی کے لیے کوشش نہ کرے؛ کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ اسے شادی کے لیے تعاون کرنے والا مل جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے کوئی ایسا شخص مل جائے اس کی دینداری اور صلاحیتوں کا معترف ہو جائے تو یہ سب امور انفرادی معاملات ہیں جو کہ حالات اور رسم و رواج کے اعتبار سے الگ الگ ہو سکتے ہیں۔جبکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ایک عمومی حکم ہے، نیز شادی کی استطاعت نہ رکھنے والے لوگوں کو روزوں کے ذریعے تحفظ دینے کی بات کی گئی ہے۔لہذا اگر کسی شخص کو شادی کے اسباب مہیا ہو جائیں تو اس کے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ بلکہ شادی کی ترغیب دلائی جائے گی اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جب فرمایا: (اور جو استطاعت نہ رکھے) تو یہ نہیں کہا کہ وہ شادی نہ کرے، بلکہ فرمایا: (تو وہ روزوں کی پابندی کرے) تا کہ گناہ میں ملوث نہ ہو جائے۔لیکن اگر شادی کی استطاعت ہو چاہے اس کیلیے اسے کچھ تکلیف اور مشقت اٹھانی پڑے تو اس میں بلا شک و شبہ کوئی حرج نہیں ہے،کیونکہ روزوں کا مشورہ اس وقت دیا گیا ہے جب استطاعت نہ ہو لیکن اگر استطاعت تو ہے لیکن تھوڑی سی مشقت برداشت کرنی پڑے گی تو شادی کرنا زیادہ بہتر ہے،

(https://islamqa.info/ur/answers/181556/)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*غربت دور کرنے کے لیے شادی کرنے کے حوالے سے چند مشہور ضعیف روایات کی حقیقت*

جو حدیث اوپر سوال میں پوچھی گئی ہے وہ تاریخ بغداد میں درج ذیل الفاظ سے مروی ہے :

🚫( أخبرنا محمد بن الحسين القطان، قال: حدثنا عبد الباقي بن قانع، قال: حدثنا محمد بن أحمد بن نصر الترمذي، قال: حدثنا إبراهيم بن المنذر، قال: حدثنا سعيد بن محمد مولى بني هاشم، قال: حدثنا محمد بن المنكدر، عن جابر، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم يشكو إليه الفاقة، فأمره أن يتزوج ”
یعنی سیدنا جابر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ،اور اس نے اپنے فقر و فاقہ کی شکایت کی ،تو آپ نے اسے شادی کرنے کا حکم دیا ”

🚫تو واضح رہے کہ یہ روایت انتہائی ضعیف اور ناقابل اعتبار ہے ،کیونکہ اس کا راوی ” سعید بن محمد ” ناکارہ راوی ہے

🚫علامہ الذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں :
قال أبو حاتم: ليس حديثه بشئ.
وقال ابن حبان: لا يجوز أن يحتج به.
آگے انہوں اس کی یہی مذکورہ حدیث نقل فرمائی ہے،

______&_______

📚اسی طرح حافظ ابن کثیر (رح) نے فرمایا : ” بعض لوگ ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” فقیری میں بھی نکاح کیا کرو، اللہ تمہیں غنی کر دے گا۔ “

🚫میری نگاہ سے تو یہ روایت نہیں گزری، نہ کسی قوی سند سے، نہ ضعیف سند سے اور نہ ہمیں اس مضمون کے لیے ایسی بےاصل روایت کی کوئی ضرورت ہے، کیونکہ قرآن کی یہ آیت اور (لوہے کی انگوٹھی تک نہ رکھنے والے سے نکاح والی) حدیث اس کے لیے کافی ہے۔ (وللہ الحمد) “
(سورہ النور آئیت_32/تفسیر ابن کثیر)

_____&_____

📚ایسی ہی ایک روایت عام مشہور ہے کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فقر کی شکایت لے کر آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نکاح کرلو۔ “ اس نے نکاح کرلیا مگر غربت بدستور مسلط رہی، وہ پھر شکایت لے کر آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر نکاح کا حکم دیا۔ اس نے دوسرا نکاح کرلیا، پھر بھی وہی حال رہا تو وہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر نکاح کا حکم دیا۔ تیسرے نکاح پر بھی غربت دور نہ ہوئی تو اس نے پھر آ کر شکایت کی، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چوتھے نکاح کا حکم دیا، اس نے اس پر عمل کیا تو اس کی غربت دور ہوگئی۔،

🚫 یہ روایت بہت تلاش کی مگر کسی معتبر کتاب میں نہیں ملی اور نہ یہ روایت نقل کرنے والے کسی صاحب نے اس کا حوالہ دیا ہے۔ ایسی باتوں کا بےسروپا ہونا خود اس کے مضمون سے ظاہر ہوتا ہے۔ ایسے فقیر کو یکے بعد دیگرے چار بیویاں ملتے چلے جانے کی کوئی مثال مشکل ہی سے ملے گی، لہذا اس روایت کی بھی کوئی حقیقت نہیں،
_________&__________

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں