321

سوال: اجنبی (غیر محرم) مردوں عورتوں کا ایک دوسرے کو سلام کہنے کے بارے شریعت میں کیا حکم ہے؟ کیا شریعت میں عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-285″
سوال: اجنبی (غیر محرم) مردوں عورتوں کا ایک دوسرے کو سلام کہنے کے بارے شریعت میں کیا حکم ہے؟ کیا شریعت میں عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے؟

Published Date: 22-9-2019

جواب :
الحمد للہ:

*اللہ تعالی نے ہمیں سلام عام کرنے کا حکم دیا ہے اور سلام کا جواب واجب قرار دیا ہے،بلکہ سلام کو ایسے امور میں شامل فرمایا جن کی وجہ سے مسلمانوں میں محبت اور الفت پیدا ہو*

📚فرمانِ باری تعالی ہے:
( وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا )
ترجمہ: جب تمہیں سلام کہا جائے تو تم اس سے اچھا سلام جواب میں کہو، یا وہی الفاظ لوٹا دو، بیشک اللہ تعالی ہر چیز کا حساب رکھنے والا ہے۔
[سورة النساء :86]

📚اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لے آؤ، اور اس وقت تک ایمان والے نہیں بن سکتے جب تک تم باہمی محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتلاؤں جس کے کرنے پر تم محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو عام کرو)
(صحیح مسلم،حدیث نمبر_54)

*سلام عام کرنے کا حکم تمام مؤمنوں کیلئے ہے وہ مرد ہوں یا عورتیں،اس حدیث میں بھی مخاطب مرد اور عورت دونوں ہیں،آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس کےمخاطب صرف مرد ہیں عورتیں نہیں ہیں۔ اور نہ قرآن و حدیث میں ہی ایسی دلیل ملتی ہے کہ مرد عورتوں کو سلام نہیں کر سکتے یا عورتیں مردوں کے سلام کا جواب نہیں دے سکتیں۔ بلکہ اس کے برعکس حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مردوں نے عورتوں کو سلام کیا ہے اور عورتوں نے ان کے سلام کا جواب دیا ہے اس لیے یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا جواب دینا اسلامی آداب میں شامل ہے*

ذیل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے عمل سے چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں،

📚بخاری اور مسلم کی حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چچا زاد بہن حضر اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تشریف لائیں اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہا رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پردہ کر رکھا تھا۔ اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کون آئی ہے؟ اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ میں اُ م ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا”مرحبا بام ہانی”(اُم ہانی کو خوش آمدید ہو)
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-3171)
(صحیح مسلم حدیث نمبر-336)

📚امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں ایک باب کا عنوان دیا ہے”
كِتَابٌ : الِاسْتِئْذَانُ
|بَابُ تَسْلِيمِ الرِّجَالِ عَلَى النِّسَاءِ وَالنِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ.
مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو سلام کرنا”

یعنی اس عنوان کے ذریعے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ان لوگوں کوجواب دینا چاہتے ہیں جو عورتوں کو سلام کرنا یا ان کا جواب دینا پسند نہیں کرتے ہیں،

اس باب کے تحت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی رائے کے حق میں دو حدیثیں پیش کی ہیں ،

📚پہلی حدیث
حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے۔ میں نے عرض کی کس لیے؟ فرمایا کہ ہماری ایک بڑھیا تھیں جو مقام بضاعہ جایا کرتی تھیں۔ ابن سلمہ نے کہا کہ بضاعہ مدینہ منورہ کا کھجور کا ایک باغ تھا۔ پھر وہ وہاں سے چقندر لایا کرتی تھیں اور اسے ہانڈی میں ڈالتی تھیں اور جَو کے کچھ دانے پیس کر ( اس میں ملاتی تھیں ) جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوتے تو انہیں سلام کرنے آتے اور وہ یہ چقندر کی جڑ میں آٹا ملی ہوئی دعوت ہمارے سامنے رکھتی تھیں ہم اس وجہ سے جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے اور قیلولہ یا دوپہر کا کھانا ہم جمعہ کے بعد کرتے تھے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر-6248)

📚دوسری حدیث
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ جبریل علیہ السلام آئے ہیں اور تمھیں سلام کہہ رہے ہیں چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کے سلام کا جواب دیا،
(صحیح بخاری حدیث نمبر-6249)

واضح رہے یہاں جبرائیل علیہ السلام مرد کی شکل میں ہی تشریف لاتے تھے،

📚اسی طرح امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں باب باندھا ہے،
سنن ترمذی
كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام

. باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى النِّسَاء
. باب: عورتوں کو سلام کرنا،

پھر نیچے یہ حدیث لائے ہیں

📚حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ فَأَلْوَى بِيَدِهِ بِالتَّسْلِيمِ، ‏‏‏‏‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، چنانچہ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا،
(سنن ترمذی حدیث نمبر-2697)

📚امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند احمد میں ایک روایت کا تذکرہ کیا ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب یمن تشریف لے گئے ایک عورت ان کے پاس آئی اور انھیں سلام کیا،
(مسند أحمد | مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ | حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ )

*ان تمام روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین عورتوں کو سلام کیا کرتے تھے اور عورتیں بھی سلام کا جواب دیتی تھیں جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت میں ہے*
______&______

*((( عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے )))*

*شرعی طور پر غیر محرم مرد و عورت کو ایک دوسرے کو سلام کہنے کی اجازت ہے،کیونکہ عورت کی آواز کے پردے کے بارے شریعت میں کوئی دلیل نہیں بلکہ قرآن میں اللہ پاک خود اجازت دیتے ہیں*

اللہ کا فرمان ذی شان ہے:

📚وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ
اور جب تم ان سے کسی چیز کے بارہ میں پوچھو, تو پردے کی اوٹ میں بات کرو۔ یہ تمہارے دلوں اور انکے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔
[سورہ الأحزاب :آئیت نمبر- 53]

📚 اس آئیت کے شان نزول کے بارے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ کاش! آپ اپنی بیویوں کو پردہ کا حکم دیتے! کیونکہ ان سے اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ دینی اور دنیاوی مسائل پر) بات کرتے ہیں۔ اس پر پردہ کی یہ آیت نازل ہوئی
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-402)

اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ احادیث کی کتابوں میں سینکڑوں احادیث موجود ہیں جن میں عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسائل پوچھتی ہیں، بات کرتی ہیں، مرد حضرات امہات المومنین سے مسائل پوچھتے تھے، اس لیے شریعت میں عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے،مگر ساتھ میں فتنہ سے بچنے کا حکم بھی ہے، کہ جب ضرورت کے وقت بات کی جائے تو ایسی آواز یا ایسے بے تکلفانہ انداز میں بات نا کی جائے جس سے اگلے کے دل میں کوئی بیماری پیدا ہو جائے،

📚جیسا کہ اللہ پاک فرماتے ہیں
يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَيَـطۡمَعَ الَّذِىۡ فِىۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ۞
ترجمہ:
اے نبی کی بیویو ! تم عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو، اگر تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں نرمی نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے طمع کر بیٹھے اور وہ بات کہو جو اچھی ہو۔
(سورہ الاحزاب آئیت نمبر-32)

📚 شیخ صالح عثیمین رحمہ اللہ لکھتے ہیں
” دبی زبان سے بات کرنے سے منع کرنا اور صاف سیدھی بات کرنے کا حکم دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عورت کی آواز پردہ نہیں ہے ، اگر عورت کی پوری آواز پردہ ہوتی تو صاف سیدھی بات کرنے کا حکم نہيں دیا جاتا بلکہ پوری طرح منع کردیا جاتا ، اس لیے کہ پھر دبی زبان سے کی گئی باتوں سے روکنے کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ”
آپ آگے کہتے ہیں ” جہاں تک سنت کی بات ہے تو اس پر بہت سے دلائل ہیں ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خواتین آتی تھیں اور مردوں کی موجودگی میں استفسارات کرتی تھیں اور آپ انہیں جواب دیتے تھے ، آپ نے کبھی عورتوں کو پوچھنے سے منع نہيں کیا اور نہ مردوں سے یہ کہا کہ تم لوگ یہاں سے اٹھ جاؤ ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کی آواز پردہ نہیں ہے، اس لیے کہ اگر آواز پردہ ہوتی تو یا تو آپ عورتوں کو منع کردیتے یا پھر مردوں کو اٹھ جانے کا حکم دیتے اور یہ دونوں نہیں ہوا ، اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی منکر کو برقرار بھی نہیں رکھ سکتے تھے ، پتہ چلا کہ عورت کی آواز پردہ نہیں ہے،
(مجموع فتاوى ورسائل الشيخ محمد صالح العثيمين – المجلد الثاني عشر – باب ستر العورة)

📚اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” ہمارے حنبلی فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے کہ عورت کی آواز پردہ نہیں ہے ، تفصیل کے لیے دیکھیے
( شرح المنتهى 3/11 )
(وشرح الإقناع 3/8 ط مقبل،)
( وغاية المنتهى 3/8)
( والفروع 5/ 157)

📚شیخ صالح منجد ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہيں ” عورت کی آواز مطلقا پردہ نہیں ہے ، عورتیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سے شکایتیں کرتی تھیں اور اسلامی امور کے بارے میں دریافت کیا کرتی تھیں ، یہی سلسلہ خلفاء راشدین اور ان کے بعد کے حکمرانوں کے ساتھ بھی رہا ، وہ اجنبی مردوں کو سلام بھی کرتی تھیں اور سلام کا جواب بھی دیتی تھیں اور علماء نے کبھی اس کی نکیر بھی نہیں کی ، ہاں عورتوں کےلیے جائز نہیں وہ اپنی بات میں نزاکت رکھے یا ایسا لہجہ اختیار کرے جس سے مرد فتنہ میں پڑ جائے،
(من فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء_ 6ج / ص83 )

🚫نوٹ اس تحریر کا یہ مطلب ہرگز نہ نکالا جائے کہ ہم مسلم عورت کو اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ وہ جس سے مرضی جیسے مرضی ہم کلام ہوتی رہے ، نہیں ، ہمارا مطلب صرف یہ ہے کہ عورت کی آواز عورت کی مانند پردہ نہيں ہے ، لیکن اگر وہ لگاوٹ اور نزاکت کے ساتھ کسی اجنبی مرد سے ہمکلام ہوتی ہے تو یہ حرام ہے ، ہمارا مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح وہ حسب ضرورت باہر نکل سکتی ہے اسی طرح حسب ضرورت وہ کسی سے بات بھی کرسکتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس ضرورت کا شرعی دائرے کے اندر ہونا ضروری ہے،
_______&_________

*((( لہٰذا اگر فتنے کا ڈر ہو تو غیر محرم نوجوان مرد و عورت ایک دوسرے کو سلام نہیں کہیں گے )))*

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں،

📚 وَالۡفِتۡنَةُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِۚ ۞
اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے،
(سورہ البقرہ،آئیت نمبر-191)

*اس لیے یاد رہے اجنبی مرد و خاتون کیلئے ایک دوسرے کو سلام اور اس کا جواب دینے کے بارے میں خاص حکم ہے، کیونکہ ایسی صورت میں بسا اوقات فتنے کا ڈر ہوتا ہے،اگر اجنبی خاتون بوڑھی اور عمر رسیدہ ہے جس کو سلام کرنے پر فتنے کا خدشہ نہیں ہے تو مرد اس سے ہاتھ ملائے بغیر صرف زبان سے سلام کر سکتے ہیں اور اس کے سلام کا جواب بھی دے سکتے ہیں،اور اگر متعدد خواتین کو اکیلا آدمی سلام کہے یا متعدد مردوں پر ایک خاتون سلام کہے تو ان سب میں سے ہر ایک کیلئے فتنے کے خدشات نہ ہونے کی صورت میں سلام کہنا یا جواب دینا جائز ہوگا اور جہاں پر فتنے کا خدشہ ہو تو وہاں نوجوان لڑکی یا لڑکے کو فتنے سے بچنے کیلئے سلام کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے،اہل علم اسی بات کی طرف رہنمائی کرتے چلے آئے ہیں*

📚وقال الحافظ في “الفتح” :
عن جواز سلام الرجال على النساء ، والنساء على الرجال، قال : الْمُرَاد بِجَوَازِهِ أَنْ يَكُون عِنْد أَمْن الْفِتْنَة .
ونَقَل عن الْحَلِيمِيّ أنه قال : كَانَ النَّبِيّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعِصْمَةِ مَأْمُونًا مِنْ الْفِتْنَة , فَمَنْ وَثِقَ مِنْ نَفْسه بِالسَّلامَةِ فَلْيُسَلِّمْ وَإِلا فَالصَّمْت أَسْلَم .
ونَقَل عَنْ الْمُهَلَّب أنه قال : سَلَام الرِّجَال عَلَى النِّسَاء وَالنِّسَاء عَلَى الرِّجَال جَائِز إِذَا أُمِنَتْ الْفِتْنَة اهـ بتصرف،
ترجمہ:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ “فتح الباری ” میں کہتے ہیں:
“مردوں کا عورتوں کو اور خواتین کو مردوں کو سلام کرنے کا جواز اس وقت ہے جب فتنے کا خدشہ نہ ہو۔
اور حلیمی رحمہ اللہ سے منقول ہے وہ کہا کرتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتنہ سے محفوظ تھے، اور آپ کو اللہ کی طرف سے حفاظت ملی ہوئی تھی، لہذا اگر کوئی شخص اپنے بارے میں یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ فتنہ میں نہیں پڑے گا تو سلام کر لے بصورت دیگر خاموشی میں ہی عافیت ہے۔
اسی طرح مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
مردوں کا عورتوں کو اور خواتین کو مردوں کو سلام کرنا اس وقت جائز ہے جب فتنے کا اندیشہ نہ ہو” انتہی مختصراً

📚چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك : هَلْ يُسَلَّمُ عَلَى الْمَرْأَةِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا الْمُتَجَالَّةُ فَلَا أَكْرَهُ ذَلِكَ، وَأَمَّا الشَّابَّةُ فَلَا أُحِبُّ ذَلِكَ.
“کیا اجنبی عورت کو سلام کیا جائے؟”
تو انہوں نے کہا: بوڑھی عورت کو سلام کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی ، تاہم نوجوان لڑکی کو سلام مجھے پسند نہیں ہے۔
(موطأ مالك | كِتَابٌ : الْجَامِعُ | الْعَمَلُ فِي السَّلَامِ ،حدیث نمبر-2758)

📚زرقانی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ کے اظہار نا پسندیدگی کی وجہ بیان کرتے ہوئے موطا کی شرح (4/385) میں لکھا ہے کہ:
“انہوں نے لڑکی کے سلام کی آواز سن کر فتنے میں مبتلا ہونے کے خدشے کی وجہ سے پسند نہیں کیا”

📚وفي الآداب الشرعية (1/ 375) ذكر ابن مفلح أن ابن منصور قال للإمام أحمد : التسليم على النساء ؟ قال : إذا كانت عجوزاً فلا بأس به
وقال صالح (ابن الإمام أحمد) : سألت أبي يُسَلَّمُ على المرأة ؟ قال : أما الكبيرة فلا بأس ، وأما الشابة فلا تستنطق . يعني لا يطلب منها أن تتكلم برد السلام
ترجمہ:
اسی طرح ” الآداب الشرعية ” (1/ 375) میں ابن مفلح رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ابن منصور نے امام احمد سے کہا:
“خواتین کو سلام کرنے کا کیا حکم ہے؟” تو انہوں نے جواب دیا: “اگر بوڑھی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے”
اور اسی طرح صالح بن امام احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے عورت کو سلام کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: “عمر رسیدہ ہو تو کوئی حرج نہیں ، اور اگر نوجوان ہو تو اسے بولنے پر مجبور مت کرو” یعنی: سلام کا جواب دینا چونکہ واجب ہے اس لیے اگر تم اسے سلام کرو گے تو واجب کی ادائیگی کیلئے اسے بولنے پڑے گا۔

📚وقال النووي في كتابه “الأذكار”
(ص 407) :
“قال أصحابنا : والمرأة مع المرأة كالرجل مع الرجل ، وأما المرأة مع الرجل ، فإن كانت المرأة زوجته ، أو جاريته ، أو محرماً من محارمه فهي معه كالرجل ، فيستحب لكل واحد منهما ابتداء الآخر بالسلام ويجب على الآخر رد السلام عليه . وإن كانت أجنبية ، فإن كانت جميلة يخاف الافتتان بها لم يسلم الرجل عليها ، ولو سلم لم يجز لها رد الجواب ، ولم تسلم هي عليه ابتداء ، فإن سلمت لم تستحق جواباً فإن أجابها كره له
ترجمہ:
اسی طرح شارح صحیح مسلم امام نووی رحمہ اللہ اپنی کتاب: “الاذکار” صفحہ: 407 میں کہتے ہیں:
“ہمارے شافعی فقہائے کرام کا کہنا ہے کہ: عورت کسی خاتون کو سلام کرے تو اس کا حکم مردوں کا آپس میں سلام کرنے والا ہی ہے، لیکن عورت مرد کو سلام کرے تو اس کی تفصیل ہے کہ اگر عورت اس مرد کی بیوی ہے یا لونڈی ہے یا کوئی بھی محرم رشتہ دار ہے تو اس کا حکم بھی مردوں کا مردوں سے سلام کا ہے، اس لیے ان سب کو دوسروں سے سلام میں پہل کرنی چاہیے، اور اگر کوئی انہیں سلام پہلے کر دے تو ان پر اسے جواب دینا واجب ہے۔
اور اگر اجنبی ہے تو خوبرو ہونے کی صورت میں سلام کرنے پر فتنے کا خدشہ ہے لہذا اسے سلام کرنا جائز نہیں ہوگا، اور اگر کوئی اسے سلام کر بھی دے تو اس کیلئے جواب دینا جائز نہیں ہوگا، اسی طرح وہ خوبرو اجنبی عورت کسی کو سلام کرتے ہوئے پہل نہیں کریگی، اور اگر وہ کسی کو سلام کہہ دے تو اسے جواب دینا درست نہیں ہے، اور اگر جواب دے دیا جائے تو یہ مکروہ ہوگا،

(مزید کیلئے دیکھیں: ” أحكام العورة والنظر” اعداد / مساعد بن قاسم الفالح)

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📚کیا شادی سے قبل منگیتر یا غیر محرم لڑکا لڑکی فون یا سوشل میڈیا وغیرہ پر بات چیت کر سکتے ہیں؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر-97)

📚غیر محرم کو چھونے اور مصافحہ کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ایک جگہ پر کام کرنے والے مرد و عورت ایک دوسرے سے ہاتھ ملا سکتے ہیں؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-267))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں