580

سوال : کسی میت یا مصیبت،تکلیف وغیرہ پر نوحہ/ماتم کرنا کیسا ہے؟ کیا شرعی طور پر اسکی اجازت ہے؟ اور ماتم وغیرہ دیکھنے کے بارے کیا حکم ہے؟ نیز کیا ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا تھا؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-277″
سوال : کسی میت یا مصیبت،تکلیف وغیرہ پر نوحہ/ماتم کرنا کیسا ہے؟ کیا شرعی طور پر اسکی اجازت ہے؟ اور ماتم وغیرہ دیکھنے کے بارے کیا حکم ہے؟ نیز کیا ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا تھا؟

Published Date: 4-9-2019

جواب:
الحمدللہ:

*اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مصیبت کے وقت صبر کی تلقین فرمائی ہے اور صبر کرنے والوں کے لیے انعامات کا ذکر فرمایا ہے جب کہ ماتم کرنا، گریبان چاک کرنا ،سینہ کوبی کرنا وغیرہ صبر کے خلاف ہے،*

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

📚يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ ۞
”اے ایمان والوں صبر اور نماز سے مدد لو۔ بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
(سورہ البقرہ آئیت نمبر_ 153)

انسان کو احکام شریعت پر عمل کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں اور مصائب و آلام برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ صبر و صلوٰة ان مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین معاون ہیں

📚 جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ ؛ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ ”
مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا سارا کام ہی خیر ہے اور یہ چیز کسی اور کو حاصل نہیں۔ (خیر اس طرح کہ) اگر اسے کوئی خوشی پہنچے تو شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔ “
(صحیح مسلم حدیث نمبر-2999)

اس آیت کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے احکامات اور مومنین کی آزمائش کا ذکر کیا ہے کہ:

📚وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ۞ وَلَـنَبۡلُوَنَّكُمۡ بِشَىۡءٍ مِّنَ الۡخَـوۡفِ وَالۡجُـوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَۙ ۞ الَّذِيۡنَ اِذَآ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۙ قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَؕ ۞اُولٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ ۞
ترجمہ:
”جولوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو کسی ایک چیز کے ساتھ ڈر سے اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی کے ساتھ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے جب ان کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ
(انّا للہ و انّا الیہ راجعون) کہتے ہیں،
اور یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے کئی مہربانیاں اور بڑی رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں۔
(سورہ البقرہ : آئیت نمبر-154 تا 157)

ایک اور جگہ پر اللہ پاک فرماتے ہیں،

📚وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ نَّبِىٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوۡنَ كَثِيۡرٌ ۚ فَمَا وَهَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوۡا وَمَا اسۡتَكَانُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور کتنے ہی نبی ہیں جن کے ہمراہ بہت سے رب والوں نے جنگ کی، تو نہ انھوں نے اس مصیبت کی وجہ سے ہمت ہاری جو انھیں اللہ کی راہ میں پہنچی اور نہ وہ کمزور پڑے اور نہ انھوں نے عاجزی دکھائی اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
(سورہ ال عمران،آئیت نمبر-146)

*مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ مومن آدمی کو اللہ تعالیٰ مختلف طرق سے آزماتا ہے۔ کبھی خوف و ڈر کے ذریعے ، کبھی جانوں اور مالوں کی کمی کے ذریعے اور کبھی پھلوں کے نقصانات سے۔ ایمان دار آدمی کو جب ان تکالیف میں سے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ بے صبری نہیں کرتا بلکہ صبر کے ساتھ ان مصائب کو برداشت کرتا ہے، اور جو لوگ مصیبت یا پریشانی دیکھ کر بے صبری کریں اور واویلا برپا کردیں، گریبان چاک کریں، بال نوچیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اُمت محمد سے نہیں ہیں*

📚 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ”
”جس شخص نے رخسار پیٹے اور گریبان چاک کیا اور جاہلیت کے واویلے کی طرح واویلا کیا وہ ہم میں سے نہیں۔”
(صحیح بخاری حدیث نمبر_1294)
(صحیح مسلم حدیث نمبر_103)
(سنن ترمذی حدیث نمبر-999)

📚ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار پڑے ‘ ایسے کہ ان پر غشی طاری تھی اور ان کا سر ان کی ایک بیوی ام عبداللہ بنت ابی رومہ کی گود میں تھا(وہ ایک زور کی چیخ مار کر رونے لگی) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کچھ بول نہ سکے لیکن جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس کام سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی غم کے وقت) چلا کر رونے والی ‘ سر منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا تھا
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1296)

📚جب زید بن حارثہ ‘ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے کہ غم کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نمایاں تھے میں دروازے کے ایک سوراخ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! جعفر کے گھر کی عورتیں نوحہ اور ماتم کر رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکنے کے لیے کہا۔ وہ صاحب گئے لیکن پھر واپس آ گئے اور کہا کہ وہ نہیں مانتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ روکنے کے لیے بھیجا۔ وہ گئے اور پھر واپس چلے آئے۔ کہا کہ بخدا وہ تو مجھ پر غالب آ گئی ہیں یا یہ کہا کہ ہم پر غالب آ گئی ہیں۔ شک محمد بن حوشب کو تھا۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میرا یقین یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دے۔ اس پر میری زبان سے نکلا کہ اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے تو نہ تو وہ کام کر سکا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا چھوڑتا ہے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1305)

*ماتم تو ہے ہی حرام تین دن سے زیادہ
سوگ کی بھی اجازت نہیں ہے*

📚ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر جب شام سے آئی تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ( ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ام المؤمنین ) نے تیسرے دن ”صفرہ“ ( خوشبو ) منگوا کر اپنے دونوں رخساروں اور بازوؤں پر ملا اور فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر کے سوا کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے اور شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن کرے۔ تو مجھے اس وقت اس خوشبو کے استعمال کی ضرورت نہیں تھی۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1280)

اس حدیث سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو ہر سال حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کا سوگ مناتے ہیں اور دس دن سینہ کوبی کرتی ہیں۔ چارپائی پر نہیں سوتے، اچھا لباس نہیں پہنتے اور کالے کپڑے پہنتے ہیں۔

📚سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے عبدالرحمٰن بن عوف ‘ سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے تو تیمار داروں کے ہجوم میں انہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا وفات ہو گئی؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ان کے مرض کی شدت کو دیکھ کر ) رو پڑے۔ لوگوں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ سب بھی رونے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سنو! اللہ تعالیٰ آنکھوں سے آنسو نکلنے پر بھی عذاب نہیں کرے گا اور نہ دل کے غم پر۔ ہاں اس کا عذاب اس کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی طرف اشارہ کیا ( اور اگر اس زبان سے اچھی بات نکلے تو ) یہ اس کی رحمت کا بھی باعث بنتی ہے اور میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ و ماتم کی وجہ سے بھی عذاب ہوتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ میت پر ماتم کرنے پر ڈنڈے سے مارتے ‘ پتھر پھینکتے اور رونے والوں کے منہ میں مٹی جھونک دیتے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1304)

📚حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ زینب(یا رقیہ) بنت رسول ﷲﷺ فوت ہوئیں تو عورتیں رونے لگیں تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے انہیں کوڑے سے مارنے کا ارادہ کیا تو انہیں حضورﷺ نے اپنے ہاتھ سے ہٹایا اور فرمایا: اے عمر چھوڑو بھی پھر فرمایا: اے عورتوں شیطانی آواز سے پرہیز کرنا پھر فرمایا:
مَهْمَا كَانَ مِنَ الْقَلْبِ وَالْعَيْنِ، فَمِنَ اللَّهِ وَالرَّحْمَةِ، وَمَهْمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَاللِّسَانِ، فَمِنَ الشَّيْطَانِ
جس غم کا اظہار آنکھ اور دل سے ہو، وہ اﷲ کی طرف سے ہے اور رحمت ہے اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو، وہ شیطان کی طرف سے ہے
(مشکوٰۃ کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت 1748)
(مسند احمد حدیث نمبر-3103)
🚫حكم الحديث: إسناده ضعيف

📚حضرت ابو مالک اشعری رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ : الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ “. وَقَالَ : ” النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا ؛ تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ “.
میری امت میں زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ہیں جن کولوگ نہیں چھوڑیں گے، حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسرے شخص کو نسب کا طعنہ دینا، ستاروں کو بارش کا سبب جاننا اور نوحہ کرنا اور نوحہ کرنے والی اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو اسے قیامت کے دن گندھک کی قمیض ہو گی اور خارش جا کرتہ ہو گا،
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْجَنَائِزُ. | بَابٌ : التَّشْدِيدُ فِي النِّيَاحَةِ. حدیث نمبر_ 934)

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں،

📚ابی مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
النِّيَاحَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّ النَّائِحَةَ إِذَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتُبْ قَطَعَ اللَّهُ لَهَا ثِيَابًا مِنْ قَطِرَانٍ، وَدِرْعًا مِنْ لَهَبِ النَّارِ ”
نوحہ ( ماتم ) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ ( ماتم ) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول ( ڈامر ) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا،
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر_1581) صحیح

📒گندھک میں آگ بہت جلد لگتی ہے اور سخت گرم بھی ہوتی ہے اور جرب وہ کپڑا ہے جو سخت خارش میں پہنایا جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے نوحہ کرنے والی پر اس دن خارش کا عذاب مسلط ہوگا کیونکہ وہ نوحہ کرکے لوگوں کے دل مجروح کرتی تھی تو قیامت کے دن اسے خارش سے زخمی کیا جائے گا
(مراۃ جلد 2، ص 503)

📚حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ : الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ ”
لوگوں میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ کفر میں مبتلا ہیں، کسی کے نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا (صحیح مسلم ،کتاں الایمان،حدیث_67)

اس حدیث میں میت پر نوحہ کرنے کو کفر قرار دیا گیا ہے اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ حلال سمجھ کر میت پر نوحہ کرنا کفر ہے اور اگر اس کام کو برا سمجھ کر کیا جائے تو یہ حرام ہے

📚حضرت انس رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
صوتان ملعونان فی الدنیا والاخرۃ مزمار عند نعمۃ ورنۃ عند مصیبۃ
دو آوازوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے۔ نعمت کے وقت گانا بجانا اور مصیبت کیوقت چلا کر آواز بلند کرنا یعنی نوحہ اور ماتم وغیرہ
(المنذري الترغيب والترهيب ٤/٢٦٨ • رواته ثقات)
(الهيثمي مجمع الزوائد ١٦/٣ • رجاله ثقات)
(السيوطي الجامع الصغير ٥٠٣٣ • صحيح)

*لہذا ان تمام احادیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ فوت شدگان کے غم میں نوحہ کرنا یا ماتم کرنا کسی صورت میں جائز نہیں ہے بلکہ ایسے کرنے والے کے بارے صاحب شریعت نے بہت سخت وعیدیں سنائی ہیں*

📚علامہ ابن حجر مکی فرماتے ہیں:
خبردار اور ہوشیار! عاشورہ کے دن روافض کی بدعتوں میں مبتلا نہ ہوجانا مانند مرثیہ خوانی، آہ و بکاء اور رنج و الم کے، اس لیے کہ یہ خرافات مسلمانوں کے شایان شان نہیں اور اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو حضوراقدس صلی الله علیہ وسلم کی وفات کا دن اس کے لیے زیادہ موزوں تھا،
(الصواعق المحرقہ، ص109)

📚حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں:
اگر حضرت حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی شہادت کا دن ”یوم مصیبت و ماتم“ کے طور پر منایا جائے تو یوم ”شنبہ“(پیرکادن) اس غم و ماتم کے لیے زیادہ موزوں ہے اس لیے کہ اس دن حضرت رسول مقبول صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی ہے اور اسی دن حضرت ابوبکر نے بھی وفات پائی ہے۔“(حالا نکہ ایسا کوئی نہیں کرتا)“`
(غنیة الطالبین، ج:2،38)

📚شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
اہل سنت کا طریقہ یہ ہے کہ عاشورہ کے دن فرقہ روافض کی بدعات مثلاً: ماتم، نوحہ وغیرہ سے علیحدہ رہتے ہیں اس لیے کہ یہ مسلمانوں کا کام نہیں ورنہ اس غم کا سب سے زیادہ حق دار پیغمبرحضرت محمدصلی الله علیہ وسلم کی وفات کا دن تھا۔“
(شرح سفرالسعادةص543)

*عشرہ محرم الحرام میں جو لوگ سیدنا علی ، سیدنا حسین اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہم کا نام لے کر گلی کوچوں میں نکلتے ہیں اور گریبان چاک کرتے ہیں ، سینہ کوبی کرتے ہیں، ان کا یہ عمل قرآن و سنت کے خلاف ہونے کے علاوہ ائمہ بیت اور مجتہدین فقہ جعفریہ کے فتاویٰ کے بھی خلاف ہے*

ہماری معلومات کے مطابق یہ قبیح عمل۳۵۲ ھ دس محرم الحرام کو بغداد میں معزالدولہ شیعہ کے حکم سے جاری ہوا ہے۔ اس سے قبل اس عمل قبیح کا نام و نشان نہیں ملتا۔

📚 تاریخ ابنِ اثیر ص ۱۹۷ پر مرقوم ہے:
”عشرہ محرم الحرام میں اس قبیح رسم کا رواج بغداد میں معزالدولہ شیعہ سے ہوا جس نے دس محرم ۳۵۲ھ کو حکم دیا کہ دو کانیں بند کر دی جائیں ، بازار اور خریدو فروخت کا کام روک دیا جائے اور لوگ نوحہ کریں ، مکمل کالا لباس پہنیں، عورتیں پراگندہ ہو کر گریبان چاک کریں، پیٹتی ہوئی شہر کا چکر لگائیں۔”

______&_____

*ماتم کی حرمت پر فقہ جعفریہ کی معتبر کتابوں سے چند روایات پیش خدمت ہیں*

📚”امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ یقینا صبر اور آزمائش دونوں مومن پر آتے ہیں۔ مومن پر جب آزمائش آتی ہے تو وہ صبر کرنے والا ہوتا ہے اور بے صبری اور آزمائش دونوں کافر پر آتے ہیں جب س پر آزمائش آتی ہے تو وہ بے صبری کرتا ہے۔”
(فروع کافی، کتاب الجنائز۱۳۱/۱)

📚 امام جعفر صادق کے اس فتویٰ سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والا مومن ہے اور جو بے صبری کرتا ہے وہ مومن نہیں ہے۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمة الزہراء رضی اللہ عنھا سے فرمایا جب میں مر جائوں تو مجھ پر چہرہ نہ نوچنا اور نہ مجھ پر اپنے بال بکھیرنا اور نہ واویلا کرنا اور نہ مجھ پر نوحہ کرنا۔”
(فروع کافی ، کتاب النکاح ، ص۲۲۸)

📚”امام جعفر صادق نے فرمایا میت پر چیخ و پکار اور کپڑے پھاڑنا جائز نہیں۔”
(فروع کافی۱۸۸/۱)

📚نبی کریمﷺ کی وفات پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا
لولا انک امرت بالصبر ونہیت عن الجزع لانفدنا علیک ماء الشئون
یا رسول ﷲ! اگر آپ نے ہمیں صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور ماتم کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو ہم آپ کا ماتم کرکے آنکھوں اور دماغ کا پانی خشک کردیتے،
(شرح نہج البلاغہ لابن میثم شیعہ، ج 4، ص 409، مطبوعہ قدیم ایران)

📚کربلا میں امام حسین رضی اﷲ عنہ کی اپنی بہن کو وصیت
یااختاہ اتقی اﷲ وتعزی بعزاء اﷲ واعلمی ان اہل الارض یموتون واہل السماء لایبقون جدی خیر منی وابی خیر منی وامی خیر منی واخی خیر منی ولی ولکل مسلم برسول اﷲﷺ اسوۃ فعزاً مابہذا ونحوہ وقال لہا یا اخیۃ انی اقسمت علیک فابری قسمی لاتشقی علی جیباً ولا تخمشی علی وجہا ولاتدعی علی بالویل والثبور اذا اناہلکت
حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ نے کربلا میں اپنی بہن سیدہ زینب کو وصیت کی فرمایا۔ اے پیاری بہن!
ﷲ سے ڈرنا اور اﷲ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق تعزیت کرنا، خوب سمجھ لو۔ تمام اہل زمین مرجائیں گے اہل آسمان باقی نہ رہیں گے، میرے نانا، میرے بابا، میری والدہ اور میرے بھائی سب مجھ سے بہتر تھے۔ میرے اور ہر مسلمان کے لئے رسول اﷲﷺ کی زندگی اورآپ کی ہدایات بہترین نمونہ ہیں۔ تو انہی کے طریقہ کے مطابق تعزیت کرنا اور فرمایا: اے ماں جائی میں تجھے قسم دلاتا ہوں۔ میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا۔ میرے مرنے پر اپنا گریبان نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرہ کو نہ خراشنا اور نہ ہی ہلاکت اور بربادی کے الفاظ بولنا۔
(الارشاد للشیخ مفید ص 232، فی مکالمۃ الحسین مع اختہ زینب، اعلام الوریٰ ص 236)
( امرالامام اختہ زینب بالصبر، جلاء العیون جلد 2، ص 553 فارسی مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ایران، )
(اخبار ماتم ص 399)

📚ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں:
کہ امام حسین نے میدان کربلا میں جانے سے پہلے اپنی بہن زینب کو وصیت فرمائی، اے میری معزز! بہن میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ جب میں اہل جفا کی تلوار سے عالم بقاء میں رحلت کرجائوں تو گریبان چاک نہ کرنا، چہرے پر خراشیں نہ ڈالنا اور واویلا نہ کرنا
(جلاء العیون جلد 2، ص 553، فارسی مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ایران)

📚”امام باقر نے فرمایا ، جس نے قبر کی تجدید کی یا کوئی شبیہ بنائی ، وہ اسلام سے خارج ہو گیا۔”
(من لا یحضر ة الفقیۃ باب النوادر)

📚”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رخسار ہر گز نہ پیٹنا اور نہ ہی چہرہ نوچنا اور نہ بال اکھیڑنا اور نہ گریبان چاک کرنا اور نہ کپڑے سیاہ کرنا اور نہ واویلا کرنا۔”
(فروع کافی، کتاب النکاح ص۲۲۸)

*مندرجہ ذیل فقہ جعفریہ کی روایات سے معلوم ہوا کہ فقہ جعفریہ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، امام باقر اور امام جعفر صادق وغیرہ سے روایات موجود ہیں جو اس بات پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں کہ مصیبت کے وقت بال بکھیرنا ، چہرے پیٹنا ، سینہ کوبی کرنا، واویلا کرنا، مرثیے پڑھنا ، شبیہیں بنانا ، قبروں کی تجدید کرنا ناجائز اور حرام ہیں۔ لہٰذا پنج تن کا نعرہ لگانے والوں کو مذکورہ بالا فقہ جعفریہ کے پانچ دلائل کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے اور اس کی خلاف ورزی کرنے سے بار آجانا چاہیے*

معلوم ہوا کہ ماہ محرم میں ماتم، نوحہ خوانی، زنجیرزنی اور تعزیہ وغیرہ جیسی غیراسلامی رسومات روافض کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ہیں، اسلام میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے،

_______&________

لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ان غیر شرعی مجالس میں شرکت نہ کریں اور جو حضرات ناواقفی کی بنا پر شرکت کرتے ہیں، انہیں سمجھا کر ان کو منع کریں، کیونکہ اسلام میں نہی عن المنکر کی بہت زیادہ تاکید بھی ہے اور فضیلت بھی ہے!

📚 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُنْكِرْهُ بِيَدِهِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
جو شخص کوئی برائی دیکھے تو چاہیئے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے بدل دے (روکے)، جسے اتنی طاقت نہ ہو وہ اپنی زبان سے اسے بدل دے اور جسے اس کی طاقت بھی نہ ہو وہ اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے“
(صحیح مسلم حدیث نمبر-49)
(سنن ترمذی حدیث نمبر-2172)

*نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنا دین کا بہت بڑا شعار ہے، اور اسی میں امت کی روح کیلئے بقا ہے*

📚” الموسوعة الفقهية ” ( 6 / 248 ) میں ہے کہ:
” نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنے سے متعلق تمام ائمہ کرام کا اتفاق ہے کہ یہ شرعی عمل ہے، بلکہ نووی اور ابن حزم رحمہ اللہ نے اس عمل کے واجب ہونے پر اجماع بھی نقل کیا ہے، مزید بر آں کتاب و سنت سے آیات و احادیث کی بہت زیادہ تعداد سمیت اجماعِ امت اس بات پر شاہد ہے کہ یہ اسی خیر خواہی میں شامل ہے جو دین کا حصہ ہے،

📚فرمانِ باری تعالی ہے:
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
ترجمہ: اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو نیکی کا کام کرنے کیلئے دعوت دے، اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ [آل عمران : 104]

📚نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ رکھے تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو دل میں برا جانے، اور یہ کمزور ترین ایمان ہے)”

📚امام غزالی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا دین کی بنیاد ہے، بلکہ رسولوں کے پیغام کی حقیقت ہے، اگر اس کام کو ختم کر دیا جائے، اوراس سے متعلقہ علوم و سرگرمیوں کو معطل کر دیا جائے تو مقصد نبوت ختم ہو جائےگا، دینداری نا پید، ہر طرف بے چینی، اور لوگ تباہ و برباد ہو جائیں گے”

📚شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا واجب ہے، لیکن یہ فرض کفایہ ہے،
چنانچہ جب کچھ لوگ یہ فریضہ ادا کریں تو باقیوں کی ذمہ داری بھی ختم ہو جائے گی، لیکن اگر اس کام کا اہل صرف ایک ہی شخص ہو تو پھر اس کیلئے یہ کام فرضِ عین ہوگا، جیسے کہ دیگر فروضِ کفایہ سے متعلق مذکورہ صورت پیدا ہو تو یہی حکم ان کے بارے میں بھی لگتا ہے، چنانچہ اگر کوئی فرضِ کفایہ ادا کرنے والا نہ ہو تو باقی پر واجب ہوتا ہے، لہذا اگر گناہ کرنے والے کچھ لوگوں کے پاس سے آپ گزریں جنہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے تو آپ پر انہیں منع کرنا فرض عین ہوگا”
(اللقاء الشهري _ ملاقات نمبر: 35 )

📚شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
“جو شخص استطاعت کے باوجود نیکی کا حکم نہ دے، برائی سے مت روکے تو اس کا کیا حکم ہے؟”
تو انہوں نے جواب دیا:
“اس کا حکم یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان، اور کمزور ایمان کا ملک ہے، اس کا دل قریب ہے کہ مردہ ہو جائے،اور اس گناہ کی سزا جلدی یا دیر اسے مل کر رہے گی ، جیسے کہ
📚اللہ تعالی کا فرمان ہے:
لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ[79] كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
ترجمہ: بنی اسرائیل کے ان لوگوں پر داود اور عیسی بن مریم کی زبانی لعنت کی گئی جنہوں نے کفر کیا، کیونکہ وہ نافرمانیاں ، زیادتیاں [79] اور گناہ کرنے والوں کو گناہ سے نہیں روکتے تھے، ان کی یہ کارستانیاں بہت ہی سنگین [جرائم]ہیں ۔[المائدة : 78]

📚اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ: (تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ رکھے تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو دل میں برا جانے، اور یہ کمزور ترین ایمان ہے)

📚آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ :
(اگر لوگ برائی دیکھنے کے بعد بھی اسے تبدیل نہ کریں تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالی ان سب کو سزا میں لپیٹ لے)
( اس حدیث کو امام احمد صحیح سند کیساتھ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے،)
اس مفہوم کی احادیث بہت زیادہ ہیں، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو اس ضروری امر پر اپنےپسندیدہ ترین انداز سے عمل کرنے کی توفیق دے ”
( مجموع فتاوى شیخ ابن باز6 / 504 )

*لہٰذا ان تمام احادیث اور علمائے کرام کے اقوال سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ماتم ہو یا اور کوئی گناہ کا کام اس کو انجوائے منٹ کے طور پر دیکھنا شرعی طور پر جائز نہیں، کیونکہ مسلمان کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ کسی جگہ گناہ یا ظلم ہوتے دیکھے تو اسکو ہاتھ سے یا زبان سے روکے،اگر طاقت نہیں ہو تو کم از کم دل میں برا جان کر وہاں سے چلا جائے،لیکن انجوائے منٹ کے لیے کسی بھی گناہ یا حرام عمل ہوتے ہوئے دیکھنا بذات خود گناہ کا سبب ہے*

__________&_________

*آئیے اب آخر پر ماتم کے جواز کے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں*

اوپر صحیح احادیث اور ائمہ کے اقوال سے ہم نے یہ بات خوب اچھی طرح تفصیل سے پڑھی سمجھی ہے کہ شریعت نے ماتم اور سوگ وغیرہ سے منع فرمایا ہے بلکہ ماتم کرنے والوں کو سخت سخت عذاب کی وعید سنائی ہے،اسکے برعکس پھر بھی ماتم کے عین شرعی ہونے پر کچھ لوگ من گھڑت دلائل پیش کرتے ہیں کہ جن سے ماتم کا دور دور تک کا کوئی تعلق ہی نہیں،

جیسے آدم علیہ السلام کا غلطی پر رونا ، یعقوب علیہ السلام کا بیٹے کے غم میں رونا، وغیرہ بے تکے دلائل ہیں جن سے ماتم کا کوئی ثبوت نہیں ملتا،

ہاں ایک دلیل سیدہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی دی جاتی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر ماتم کیا،

ہم ان شاء اللہ پہلے اس روایت کی مکمل تخریج لکھتے ہیں پھر اس کا جواب آپ کو پیش کرتے ہیں،

یہ روایت دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض وفات کے باب سے تعلق رکھتی ہے اسی وجہ سے امام بخاری نے اس روایت کو ” باب مرض النبی و وفاته ” کے باب میں روایت کیا ہے جبکہ دیگر محدثین نے قدرے اختلاف کے ساتھ ” کتاب النکاح ” وغیرہ میں نقل کیا ہے،

چنانچہ اب ہم اس روایت کی تخریج میں متعدد طرق کو مختلف مصادر سے نقل کریں گے،

حضرت عائشہ صدیقہ رض کی یہ روایت تقریباً چار طرق سے مروی ہے

📚طرق اول

امام بخاری، امام مسلم، اور امام بیہقی نے اس روایت کو ہشام بن عروہ کے طریق سے روایت کیا ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول خدا کا وصال اس حال میں ہوا کہ آنحضرت کا سر اقدس میرے سینے اور گلے کے درمیان تھا روایت کے الفاظ یہ ہیں ۔

فَقَبَضَهُ اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي۔

(صحیح للبخاری// رقم الحدیث 4450//
(السنن الکبری للبیہقی// رقم الحدیث 13430// جلد 7// صفحہ 74// طبعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ)

امام مسلم نے ان الفاظ سے روایت کری ھے ۔

فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي

الجامع الصحیح للمسلم// رقم الحدیث 6292// صفحہ 1018// طبعہ مکتبة العصرية

اس پہلے طریق میں ماتم کا ذکر نہی ہے،

_______&_________

📚طرق ثانی

امام احمد بن حنبل اور ابن سعد نے اس روایت کو ابن ابی ملیکه کے طریق سے روایت کیا ہے

📚 ابن سعد کی روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں ۔
قالت عائشة توفي رسول الله في بيتي و بين سحري و نحري۔
(الطبقات الکبری// جلد2// صفحہ 201// طبعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

📚امام احمد نے اسطرح روایت کری ہے ۔

عن عائشة قالت توفي النبي في بيتي و في ليلتي
(المسند للأحمد// رقم الحدیث 25142// جلد17// صفحہ556//طبعہ دارالحدیث القاہره مصر)

اس طرق میں بھی ماتم کا ذکر نہی ہے ۔
_________&________

📚طرق ثالث

ابن سعد نے عروہ بن زبیر کے طریق سے روایت کیا ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول خدا کا وصال ہوا اس حال میں کہ آنحضرت کا سر اقدس میری گود میں تھا وصال کے بعد میں نے آپ کا سر مبارک تکیہ پر رکھدیا اور میں کھڑی ہوگئی اور دیگر ازواج کے ساتھ چیخ و پکار کرنے لگی اس حال میں کہ میں اپنا سینہ پیٹ رہی تھی

چنانچہ روایت کے الفاظ ملاحظہ ہوں ۔

📚فعجبت من حداثة سني أن رسول الله قبض في حجري فلم أتركه علی حاله حتی یغسل و لکن تناولت وسادة فوضعتها تحت رأسه ثم قمت مع النساء أصيح و ألتدم

(الطبقات الکبری// جلد2// صفحہ201// طبعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

اس طریق میں حضرت عائشہ کا چیخنے اور چہرہ پر ہاتھ مارنے کا ذکر موجود ہے لیکن اسکی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں محمد بن عمر الواقدی متروک ہے اگرچہ واقدی کا شمار تاریخ کے ائمہ میں ہوتا ہے جو کہ توثیق پر دلالت نہی کرتا اور ویسے بھی حدیث میں انکی روایات قابل احتجاج نہی ہیں

📚 چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ۔محمد بن عمر بن واقد الأسلمی الواقدی المدنی القاضی نزیل بغداد، متروک مع سعة علمه من التاسعة۔
تقریب التھذیب// جلد2// صفحہ117// طبعہ قدیمی کتب خانہ

لہذا اس روایت سے ماتم کے جواز پر استدلال نہی کیا جاسکتا،
__________&__________

📚 طرق رابع

امام احمد بن حنبل اور حافظ ابو یعلی الموصلی نے ابن اسحاق کے طریق سے روایت نقل کری ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول خدا کے وصال کے بعد میں نے آنحضرت کا سر اقدس تکیہ پر رکھدیا اور میں خود کھڑی ہوگئی اور دیگر عورتوں کے ساتھ چہرے پر ہاتھ مارنے لگی ۔

روایت کے الفاظ کچھ اسطرح ہیں

📚” و قمت ألتدم مع النساء و أضرب وجهي ”

(المسند للأحمد//رقم الحدیث 26226//جلد18//صفحہ199//طبعہ دارالحدیث قاہرہ مصر)

(المسند لأبی یعلی الموصلی//رقم الحدیث 4586//جلد8//صفحہ63//طبعہ دارالمامون للتراث)

اس چوتھے طرق میں چہرے پر ہاتھ مارنے کا ذکر موجود ہے،

چونکہ یہ آخری روائیت امام احمد اور حافظ ابو یعلی نے یہ روایت چونکہ ابن اسحاق سے نقل کری ہے اس لیئے ہم روایت کے اصل ماخذ کیطرف رجوع کرتے ہیں۔

📚 چنانچہ اس روایت کو امام ابن اسحاق نے اس سند سے روایت کیا ہے ۔
حدثني يحيى بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه عبد الله، قال: سمعت عائشة رضي الله عنها تقول مات رسول الله صلى الله عليه وسلم بين سحري ونحري، وفي دولتي لم أظلم فيه أحداً، فمن سفهي وحداثة سني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض وهو في حجري، ثم وضعت رأسه على وسادة وقمت ألتدم مع النساء وأضرب وجهي
(السيرة النبوية لأبن اسحاق//جلد2//صفحہ713//طبعہ دارالکتب العلمیہ)
بیروت،

اس روایت کے مرکزی راوی محمد بن اسحاق ہیں،

اگرچہ محمد بن اسحاق سے محدثین نے احادیث نقل کی ہیں اور انکی روایات کو کچھ محدثین نے صحیح اور کچھ نے حسن درجے میں رکھا ہے،

لیکن اسکے باوجود حافظ ابن حجر نے ابن اسحاق کو مدلس بھی کہا ھے کہ ابن اسحاق بعض اوقات تدلیس سے بھی کام لیتے ہیں

📚 چنانچہ حافظ لکھتے ہیں
محمد بن اسحاق بن یسار أبو بكر المطلبی، مولاھم، المدنی، نزیل العراق، امام المغازی، صدوق، یدلس
(تقریب التھذیب// جلد2// صفحہ54// طبعہ قدیمی کتب خانہ)

تدلیس کے باوجود بھی اس روایت کو کئی محدثین نے صحیح اور کئی نے حسن کہا ہے

📚جیسا کہ مسند احمد کے محقق شیخ احمد شاکر اور مسند ابی یعلی کے محقق شیخ حسین سلیم اسد نے بھی ابن اسحاق کے طریق سے اس روایت کی سند کو صحیح کہا ہے ملاحظہ ہو ۔
(المسند للاحمد// جلد18// صفحہ199// طبعہ دارالحدیث قاہرہ مصر)
(المسند لأبي يعلی// جلد8// صفحہ62، 63//طبعہ دارالمامون للتراث)

📚لیکن چونکہ ابن اسحاق کا بالاتفاق صحیح الحدیث ہونا مسلم نہی ہے اسلیئے بعض محققین نے ابن اسحاق کی روایت کو حسن کہا ہے جیساکہ شیخ البانی اور محقق شعیب ارنؤوط نے اس روایت کی تحسین کری ہے ملاحظہ ہو
(المسند للاحمد// جلد43// صفحہ369// طبعہ مؤسسة الرسالة)
(ارواء الغلیل// جلد7// صفحہ86// طبعہ المکتب الاسلامی)

*خلاصہ کلام یہ ہوا کہ اگرچہ کچھ محدثین کے ہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے منسوب ابن اسحاق کی یہ روایت صحیح یا حسن درجے کی ہے، مگر یاد رہے ابن اسحاق وہ راوی ہیں جن پر محدثین کا کلام بھی ہے کہ وہ کبھی کبھی تدلیس سے بھی کام لیتے تھے*

________&__________

لہذا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

📒1_ پہلی بات
کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح سند سے مروی پہلے دونوں طرق میں نوحہ کرنے یا چہرہ پیٹنے کے الفاظ موجود نہیں ہیں،
اور آخری دو طرق جن میں ایک تو بالکل واضح ضعیف ہے اور ایک طرق جس پر شکوک و شبہات ہیں ہم اس ایک کمزور سند کی روایت کو اوپر ماتم کی حرمت میں ذکر کردہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہی بہت سی صحیح احادیث کے مقابل میں کیسے پیش کر سکتے ہیں؟

📒2_دوسری بات
یہ شیعہ لوگ جب بھی دلیل دیتے ہیں تو صرف اپنے مطلب کی بات کرتے ہیں اور پوری بات نہیں کرتے۔ جس طرح حضرت عائشہ کا ماتم ثابت کرنا چاہ رہے ہیں لیکن مکمل روایت نقل نہیں کی، اگر ہم مان بھی لیں کہ ایک طرق سے مروی روائیت صحیح یا حسن ہے تو بھی اس حدیث سے شیعہ کا ماتم ثابت نہیں ہوتا،

مکمل روایت پڑھیں اور فیصلہ خود کریں:

📚حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَاأَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِييَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَتَقُولُ : مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَفِي دَوْلَتِي، لَمْ أَظْلِمْ فِيهِ أَحَدًا، فَمِنْ سَفَهِي وَحَدَاثَةِ سِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قُبِضَ وَهُوَ فِي حِجْرِي، ثُمَّ وَضَعْتُ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ، وَقُمْتُ أَلْتَدِمُ مَعَ النِّسَاءِ، وَأَضْرِبُ وَجْهِي.
(مسند احمد: حدیث نمبر-26348)
ترجمہ :
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے،انھوں نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال میری گردن اور سینے کے درمیان میری ہی باری کے دن ہوا، میں نے اس دن کسی سے کچھ بھی زیادتی نہیں کی،یہ میری نا سمجھی اور نو عمری تھی کہ میری گود میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہوئے۔ پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک تکیہ پر رکھ دیا اور میں عورتوں کے ساتھ مل کر رونے لگی اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی۔ ،

(1) : ۔ اس میں ماتم کا جواز نہیں ملتا بلکہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرما رہی ہیں کہ “یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی ۔

(2) : ۔ یہ وفات کسی عام بندے کی نہیں تھی بلکہ افضل البشر و رحمۃ اللعالمین کی وفات تھی اور کم عمری اور اچانک جذباتی ہونے کیوجہ سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ عمل ہو بھی گیا ہے تو اس کو ماتم کرنے کی دلیل نہیں لی جا سکتی ۔

(3) : ۔ ہمارے نزدیک انبیاء علیہم السّلام کے علاوہ کوئی بھی معصوم عن الخطاء نہیں، اور یہ حضرت عائشہ رض کی انفرادی غلطی ہو سکتی ہے جیسا کہ وہ خود فرماتی ہیں،

(4) : ۔ اگر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک بارماتم ثابت ہے اور جس میں وہ خود اپنی غلطی کا اظہار بھی فرما رہی ہیں تو کیا اسے جس طرح شیعہ ماتم کرتے ہیں اس کی دلیل لی جا سکتی ہے ؟ کیا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ہر سال ماتم کیا ؟

(5) : ۔ اگر شیعہ سمجھتے ہیں کی ماتم کرنا محبت کی نشانی ہے تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال مبارک پر حضرت علی ، فاطمہ ، امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنھم اجمعین نے ماتم کیوں نہ کیا ؟
کیوں سینہ نہیں پیٹا ؟
کیوں تلوار سے ماتم نہیں کیا ؟
کیوں قمی زنی نہیں کی ؟
کیا ان حضرات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت نہیں تھی ؟

(6) : ۔ کیا شیعہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات پر ہر سال ماتم کرتے ہیں ؟ کیونکہ ماتم تو شیعہ کے نزدیک عبادت ہے ، اور بعض کے نزدیک تو اصل نماز ہی ماتم ہے ۔ ہم شیعہ حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ عزوجل سے ڈریں اور جب بھی بات کریں تو مکمل کیا کریں صرف اپنے مطلب کی بات کاٹ کر لوگوں کو گمراہ نہ کریں ۔ اللہ عزوجل نے ہمیں اشرف المخلوقات میں سے پیدا کیا اگر وہ چاہتا تو ہمیں جانوروں میں سے بھی پیدا کر سکتا تھا اس وجہ سے اللہ کا شکر ادا کریں اللہ سبحان وتعالی نے ہمیں صحت جیسی نعمت دی، ہمیں دماغ دیا سوچنے کیلئے اس وجہ سے اللہ کی دی ہوئی نعمت کا کفر نہ کریں اپنا خون بہا کر،

*اللہ ہم سب کو حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان صبر کرنے والوں میں سے کردے ،الله تعالیٰ ہمیں ان فضول رسومات و بدعات سے بچائیں اور راہ راست پر چلنے کی توفیق عطافرمائیں آمین*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

ا📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں