506

سوال_کسی قبر یا مزار وغیرہ کو چومنا اور تعظیمی سجدہ کرنا کیسا ہے؟اور کیا قبرستان میں یا دربار/مزار پر  نماز،قرآن پڑھنا جائز ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-19”
سوال_کسی قبر یا مزار وغیرہ کو چومنا اور تعظیمی سجدہ کرنا کیسا ہے؟اور کیا قبرستان میں یا دربار/مزار پر  نماز،قرآن پڑھنا جائز ہے؟

Published Date: 21-12-2017

جواب۔۔!
الحمدللہ۔۔۔!!

*ہر قسم کی عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، لہذا تمام بدنی عبادات بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے*

لہذاٰ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

📚قُل إِنَّ صَلاتى وَنُسُكى وَمَحياىَ وَمَماتى لِلَّهِ رَبِّ العـٰلَمينَ ﴿١٦٢﴾ لا شَريكَ لَهُ…﴿١٦٣﴾….!
“آپ فرما دیجیے کہ یقینا میری نماز، میری ساری عبادات، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔”
(سورہ الانعام،آئیت نمبر-162٫163)

📚اور ارشاد نبوی ہے
وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ۔۔۔۔۔!
تمام آداب بندگی، تمام عبادات اور تمام بہترین تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔۔۔
(بخاری،الاذان،التشھد فی الاخرۃ:831)

سجدہ عبادت کا کامل ترین مظہر ہے۔ یہ انتہائی تذلل اور عاجزی و انکساری کی علامت ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اس کی حقیقی مستحق ہے، لہذا قبروں پر سجدہ کرنا شرک ہے،

📚ارشادباری تعالیٰ ہے:
يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اركَعوا وَاسجُدوا وَاعبُدوا رَبَّكُم …
“ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو، اور اپنے رب کی عبادت کرو۔”
(سورہ الحج،آئیت نمبر-77)

📚ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿فَاسجُدوا لِلَّهِ وَاعبُدوا۔۔۔۔!
“اللہ کے لیے ہی سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔”
(سورہ نجم،آئیت نمبر-62)

📚ایک دعا سے بھی معلوم ہوتا ہے:
(سجدَ وجهـيَ للذي خلقَـه وشَـقَّ سمعَـه وبصرَه بحولـِه وقـوَّتِه فتبارك الله أحسن الخالقين)
“میرے چہرے نے اس ہستی کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اپنی قوت و طاقت سے کان اور آنکھیں عطا کیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) اللہ بابرکت ہے جو بہترین پیدا کرنے والا ہے۔”
(سنن ترمذی، الجمعۃِ ما یقول فی سجود القرآن، حدیث نمبر: 580)
(سنن ابوداؤد، حدیث نمبر: 1414)

جو شخص مخلوقات میں سے کسی کو سجدہ کرتا ہے وہ دراصل اس کی عبادت کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے والا شمار نہیں ہو گا۔

📚ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمِن ءايـٰتِهِ الَّيلُ وَالنَّهارُ وَالشَّمسُ وَالقَمَرُ لا تَسجُدوا لِلشَّمسِ وَلا لِلقَمَرِ وَاسجُدوا لِلَّهِ الَّذى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُم إِيّاهُ تَعبُدونَ ۔۔۔!
“اور دن رات اور سورج چاند بھی اسی کی نشانیوں میں سے ہیں، تم سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجدہ اس اللہ کو کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تمہیں اسی کی عبادت کرنی ہے تو۔”
(سورہ فصلت ،آئیت نمبر-37)

(إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ) سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کو سجدہ کرنا خالص عبادت الہٰی کے منافی ہے۔ اس لیے جو(إِيَّاكَ نَعْبُدُ) کا عتقاد رکھتا ہو اور اس کا اعتراف و اقرار کرتا ہو، اس کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ کسی قبر وغیرہ کو سجدہ کرے،

*ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کیلے ممنوع ہے وہ چاہے تعظیمی سجدہ ہو یا عبادت کی نیت سے ہو،*

📚ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في نفر من المهاجرين والأنصار ، فجاء بعير فسجد له فقال أصحابه : يا رسول الله تسجد لك البهائم والشجر فنحن أحق أن نسجد لك . فقال : “اعبدوا ربكم ، وأكرموا أخاكم
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار کی ایک جماعت میں موجود تھے کہ ایک اونٹ نے آ کر آپ کو سجدہ کیا۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو جانوراور درخت سجدہ کرتے ہیں ان سے زیادہ تو ہمارا حق ہے کہ ہم آپ کو سجدہ کریں؟ آپ نے فرمایا: “اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کی تعظیم کرو۔”
(مسند احمد 6/67،حدیث نمبر-24471)
وفیہ علی بن زید وھو ضعیف عند الجمھور

(اعْبُدُوا رَبَّكُمُ) کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس سجدے کی اجازت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم مانگ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عبادت قرار دیا اور اسے رب تعالیٰ کے لیے کرنے کا حکم صادر کیا۔ اس قسم کے سجدے کو لوگ اپنے خیال کے مطابق تکریمی یا تعظیمی سجدہ کہتے ہیں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عبدت کا نام دیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی چیز کو کسی بھی قسم کا سجدہ کرنا جائز نہیں۔

📚ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ،
رسول اللہ ﷺ انصاریوں کے کسی باغ میں داخل ہوئے تو وہاں دو اونٹ  لڑ رہے تھے اور کانپ رہے تھے،
آپ ان کے قریب ہوئے  تو ان دونوں نے اپنی گردنیں زمین پر ٹکا دی، آپ ﷺ کے ساتھ موجود لوگ کہنے لگے: “اونٹ آپ کو سجدہ کر رہے ہیں”
اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کسی کو کسی کیلیے سجدہ کرنا اچھی بات نہیں ہے، اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔۔۔!
(صحیح ابن حبان،حدیث نمبر،4162)
اس حدیث کو البانی نے “ارواء الغلیل” (7/54) میں حسن قرار دیا ہے۔

📚جب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
اے معاذ! یہ کیا ہے؟
انہوں نے کہا: میں شام گیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میری دلی تمنا ہوئی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نہیں، ایسا نہ کرنا،
اس لیے کہ اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کر لے، اور اگر شوہر عورت سے جماع کی خواہش کرے، اور وہ اونٹ کے کجاوے پر سوار ہو تو بھی وہ شوہر کو منع نہ کرے،
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر_1853)
حسن صحیح

📚قیس بن سعد رضی ﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَقُلْتُ رَسُولُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ ‏.‏ قَالَ ‏”‏ أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏”‏ فَلاَ تَفْعَلُوا،
میں حیرہ آیا،(حیرہ کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے) تو دیکھا کہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں تو میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں سجدہ کیا جائے،
میں جب آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے کہا کہ میں نے حیرہ شہر میں لوگوں کو اپنے سردار کے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا،
تو اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں،
آپ ﷺ  فرمایا: بتاؤ کیا اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو گے، تو اسے بھی سجدہ کرو گے؟
وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: نہیں،
آپ ﷺ نے فرمایا:
تو تم اب بھی ایسا نہ کرو،
اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔۔!
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر،2140)
(المنذري (٦٥٦ هـ)، الترغيب والترهيب ٣/١٠٠ • في إسناده شريك وقد أخرج له مسلم في المتابعات ووثق )
الألباني (١٤٢٠ هـ)، صحيح أبي داود ٢١٤٠ • صحيح دون جملة القبر
(علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روائیت کو صحیح کہا ہے ،قبر پر سجدے والے جملے کے علاوہ)

📚انصاری صحابہ کا ایک اونٹ بپھر گیا جس سے وہ پانی کھینچتے تھے کنویں سے،تو انہوں نے
نبی اکرمﷺ سے گزارش کی،
آپ ﷺاونٹ کی طرف جانے لگے تو صحابہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول یہ تو کتے کی طرح کاٹتا ہے،یہ آپکو نقصان پہنچائے گا، آپ نے فرمایا مجھے کچھ نہیں کہتا،جب آپ ﷺ اسکے قریب گئے، اونٹ کی نظر آپ پر پڑی تو اس  نے اپنا سر آپکے قدموں میں رکھ دیا،
تو صحابہ کہنے لگے کہ یہ تو نا سمجھ جانور ہے اور آپکو سجدہ کر رہا ہے اور ہم سمجدار انسان ہیں تو ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ہم آپکو سجدہ کریں؟
آپﷺ نے فرمایا، نہیں،
کسی انسان کا انسان کو سجدہ کرنا جائز نہیں،اگر بشر کا بشر کو سجدہ جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ اسکا بہت زیادہ حق ہے اپنی بیوی پر،
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر شوہر کے پاؤں سے لیکر سر کے بالوں تک زخم ہوں اور ان میں پیپ ریشہ بھرا ہو،
بیوی اس ریشے کو منہ سے چاٹ کر صاف کرے پھر بھی شوہر کا حق ادا نہیں ہوتا،
(مسند احمد، حدیث نمبر_12614)
صحیح لغیرہ، علامہ البانی نے اسکی سند کو جید کہا ہے،

📚قبروں پر سجدہ کرنے والوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملعون قرار دیا ہے۔ دعائے نبوی ہے:
اللهم لا تجعل قبري وثناً يعبد، اشتد غضب الله على قوم اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد،
“اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا کہ پوجی جائے۔ ایسی قوم پر اللہ کا شدید غضب نازل ہو جنہوں نے اپنے نبی کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا،
(موطا امام مالک، قصر الصلاۃ فی السفر، جامع الصلاۃ، ح: 416، )مرسل،
(الألباني (١٤٢٠ هـ)، تخريج مشكاة المصابيح ٧١٥ • صحيح )
( أخرجه مالك في «الموطأ» (١/١٧٢)،
(وابن سعد في «الطبقات الكبرى» (٢١٤١)

📚حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، کہ
أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَذَكَرَتَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : ” إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ “.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس ایک کلیسا  کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ کے علاقے میں دیکھا تھا، اور اس میں موجود تصاویر کا بھی ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: “ان لوگوں میں جب کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو اسکی قبر پر مسجد بنا  کر اس میں انکی تصاویر بناتےتھے ، یہ لوگ اللہ کے ہاں بد ترین مخلوق ہیں،
(صحیح بخاری: حدیث نمبر427)
(صحیح مسلم: حدیث نمبر528)

📚نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں فرمایا کہ
لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى ؛ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا. قَالَتْ : وَلَوْلَا ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ، غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا ”
یہود اور نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر ایسا ڈر نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھلی رہتی ( اور حجرہ میں نہ ہوتی ) کیونکہ مجھے ڈر اس کا ہے کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر بھی مسجد نہ بنا لی جائے۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_1330)

📚جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی وفات سے پانچ دن پہلے  آپ سے سنا، آپ فرما  رہے تھے۔۔۔
أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ ”
خبردار! تم سے پہلے لوگ  اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں پر مساجد بنا لیتے تھے، خبردار!  تم قبروں کو مساجد مت بنانا، بیشک میں تمہیں اس سے روک رہا ہوں
(صحیح مسلم،حدیث نمبر_532)

*قبرستان،مزار، دربار وغیرہ پر  قرآن نماز پڑھنا جائز نہیں*

📚حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ ؛ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ “.
” اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے،
(صحیح مسلم،حدیث نمبر_780)
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-2877)

📚عبداللہ بن عمر رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا “.
گھروں میں نماز پڑھو اور انہیں قبریں مت بناؤ،
(صحیح مسلم،حدیث نمبر_777)
(سنن ترمذی،حدیت نمبر_451)

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْحَمَّامَ وَالْمَقْبَرَةَ ”
ساری زمین نماز پڑھنے کی جگہ ہے، سوائے حمام ( غسل خانہ ) اور قبرستان کے ۔
(سنن ابو داؤد ٬حدیث نمبر_492)

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا “.
اپنی نماز میں سے کچھ نماز (سنت اور نوافل)گھروں میں پڑھا کرو، اور انہیں قبرستان نہ بناؤ،
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_1448)

📚ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا ”
قبروں پر مت بیٹھو، اور نہ ہی قبروں کی جانب متوجہ ہو کر نماز ادا کرو،
(صحیح مسلم: حدیث نمبر_972)

📚حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو قبر کے پاس نماز پڑھتے دیکھا تو انہیں  منع کردیا،
(اور تنبیہ کیلئے ان سے کہا۔۔) قبر، قبر۔۔۔!
(صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، قبل الحدیث-427)
بیہقی(2ج/ص435)

*یعنی کسی قبر کی طرف منہ کر کے اللہ کے لیے نماز پڑھنا بھی جائز نہیں،اور نا قبر پر بیٹھ کر قرآن پڑھنا درست ہے*

*قبر یا دربار وغیرہ کو چومنا یا سجدہ تعظیمی بھی جائز نہیں،*

📚حضرت عمر رضی اللہ عنہ
أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ : إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ.
حجر اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا اور فرمایا ”میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے میں نہ دیکھتا تو میں بھی کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔“
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-1597)

*اس حدیث سے یہ صاف سمجھ لینا چاہیے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے جان  پتھر کو نہیں سنا رہے تھے بلکہ مقصد لوگوں کو سنانا تھا،کہ پتھر کو چومنا جائز نہیں،اور حجر اسود کو چوم اس لیے رہے کہ نبی نے چوما،وگرنہ کبھی نا چومتے،*

📒شیخ الاسلام،ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :۔
’’قبر کو (تبرک کی نیت سے)ہاتھ لگانا،اس کے پاس نماز پڑھنا،دُعا مانگنے کے لیے قبر کے پاس جانا،یہ اعتقاد رکھنا کہ وہاں دُعا کرنا عام جگہوں پر دُعا کرنے سے افضل ہے اور قبر پر نذر و نیاز کا اہتمام کرنا وغیرہ ایسے کام ہیں جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔یہ کام تو ان قبیح بدعات میں سے ہیں،جو شرک کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھتی ہیں۔ واللہ اعلم واحکم۔
(مجموع الفتاوٰی : 321/24)

ایک اور جگہ شیخ موصوف فرماتے ہیں،

📒’قبر کسی کی بھی ہو،اس کو(تبرک کی نیت سے)چھونا،بوسہ دینا اور اس پر اپنے رخسار ملنا منع ہے اور اس بات پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے۔یہ کام انبیاء ِ کرام کی قبور ِمبارکہ کے ساتھ بھی کیا جائے،تو اس کا یہی حکم ہے۔اسلافِ امت اور ائمہ دین میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا،بلکہ یہ کام شرک ہے،
جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
{وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِھَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَاسُوَاعًا وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا٭ وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا}
(نوح 71 : 24-23)
(وہ [قوم نوح کے مشرکین]کہنے لگے:تم کسی بھی صورت وَد، سُوَاع، یَغُوث، یَعُوق اور نَسْر کو نہ چھوڑو،[یوں]انہوں نے بے شمار لوگوں کو گمراہ کر دیا)۔یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ یہ سب قومِ نوح کے نیک لوگوں کے نام تھے۔ایک عرصہ تک یہ لوگ ان کی قبروں پر ماتھے ٹیکتے رہے،پھر جب لمبی مدت گزر گئی، تو انہوں نے ان نیک ہستیوں کی مورتیاں گھڑ لیں۔قبروں کی یہ تعظیم اس وقت خصوصاً شرک بن جاتی ہے جب اس کے ساتھ ساتھ میت کو پکارا جانے لگے اور اس سے مدد طلب کی جانے لگے۔‘
(مجموع الفتاوٰی : 91/27۔92)

📒ایک اور جگہ فرماتے ہیں،
’’سلف صالحین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قبریں انبیاء ِ کرام کی ہوں یا عام لوگوں کی، ان کو نہ بوسہ دینا جائز ہے ،نہ ان کو (تبرک کی نیت سے)چھونا۔قبروں کے پاس نماز کی ادائیگی اور دعا کی قبولیت کی غرض سے جانا یا ان قبروں کے وسیلے سے دُعا کرنامستحسن نہیں۔یہ سارے کام شرک اور بت پرستی کا سبب بنتے ہیں۔‘‘
(مجموع الفتاوٰی : 31/27)

*اسی طرح نماز  جنازہ میں سجدہ و رکوع کا نا ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ جب سامنے کوئی میت ہو تو اللہ کو بھی سجدہ جائز نہیں،تو قبروں، درباروں پر جھکنا یا سجدہ کرنا کیسے جائز ہو سکتا۔۔۔؟*

سلسلہ کا خلاصہ!

*ان تمام احادیث مبارکہ سے پتہ چلا کہ قبرستان نماز یاقرآن پڑھنے کی جگہ نہیں، اور جن گھروں میں نفل نماز اور قران نہیں پڑھا جاتا ان گھروں کو نبیﷺ نے قبرستان سے تشبیہ دی،*

*وجہ حرمت یہ بھی ہے کہ قبرستان میں نماز  کو قبروں کی پوجا کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے، یا کم از کم قبروں کے پجاریوں کیساتھ  اس میں مشابہت ضرور ہے، اسی لئے نبیﷺ نے سورج کے طلوع یا غروب ہونے کے وقت میں  نماز پڑھنے سے منع فرمایا، کیونکہ سورج کے پجاری اس وقت  سورج  کی عبادت کرتے تھے، یہ ممانعت اس لئے فرمائی تا کہ نماز کو  سورج کی پرستش کا ذریعہ نہ بنا لیا جائے، یا کم از کم کفار کی مشابہت سے بچا جائے۔*

*اور اپنی زندگی کے آخری قیمتی مراحل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو نصیحتیں صحابہ کو کیں ان میں ایک خاص نصیحت یہ بھی کی کہ قبروں پر مسجدیں نہ بنانا جیسے یہودی فوت شدہ نیک لوگوں کی قبروں پر مسجدیں بنا لیتے تھے،مسکد بنانے سے مراد یہی ہے کہ وہاں قبر وغیرہ پر اللہ کی عبادت بھی نا کی جائے، نا وہاں نماز پڑھیں نا وہاں قرآن  پڑھیں*

*اور جنہوں نے قبروں پر مسجدیں بنائی، یعنں وہاں نماز قرآن پڑھنا شروع کر دیا انکے بارے اس قدر سخت الفاظ فرمائے کہ یہ لوگ اللہ کے ہاں بد ترین مخلوق ہیں،*

*لہٰذا آج کل لوگوں کی روٹین بن چکی ہے کہ قبرستان اور مزارات پر جا کر قرآن پڑھتے ہیں، نوافل پڑھتے ہیں، یہ سب کام ناجائز اور حرام ہیں ہیں،ان سے بچنا ہر صورت ضروری ہے،*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📚سوال_ کیا سلام کہتے یا ملتے وقت کسی عالم/ بزرگ یا پیر کے لیے جھکنا جائز ہے؟ نیز کسی نیک آدمی کو تعظیمی سجدہ کرنا کیسا ہے؟
( تفصیل دیکھیں گزشتہ سلسلہ نمبر-18)

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ 
📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں